مواد پر جائیں مواد پر جائیں
Reading: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 کے 5 اہم نکات  //  16 اکتوبر، 2026  //  5 min read  // 
جرنل پر واپس مضمون

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 کے 5 اہم نکات

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون اس وقت لاگو ہوتا ہے جب بلے باز کا جسم، پیڈ یا کوئی دوسرا حصہ گیند کو وکٹ سے ٹکرانے سے روکے، بشرطیکہ قانون کی تمام شرائط پوری ہوں۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین کے مطابق فیص...

16 اکتوبر، 2026
5 min read
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 کے 5 اہم نکات

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 کے 5 اہم نکات

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون اس وقت لاگو ہوتا ہے جب بلے باز کا جسم، پیڈ یا کوئی دوسرا حصہ گیند کو وکٹ سے ٹکرانے سے روکے، بشرطیکہ قانون کی تمام شرائط پوری ہوں۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین کے مطابق فیصلہ گیند کے نو بال نہ ہونے، گیند کے پچ ہونے، وکٹ کی سمت، بلے باز کے ارادے اور گیند کے جسم سے ٹکرانے کے مقام کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مقابلوں میں ڈی آر ایس، ہاک آئی اور امپائرز کال فیصلہ مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گیند کا 50 فیصد سے کم حصہ وکٹوں سے ٹکرانے کی پیش گوئی کرے تو فیلڈ پر موجود فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ 2026 میں بھی بنیادی قانون وہی ہے، مگر ٹیکنالوجی نے جائزے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ ایل بی ڈبلیو سمجھنے کے لیے پہلے تین سوال پوچھیں: گیند کہاں پِچ ہوئی، جسم کہاں لگا، اور وکٹ پر اثر کیا بنتا؟

ایک کرکٹ امپائر سرخ گیند کے سامنے ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ دیتے ہوئے روشن اسٹیڈیم میں کھڑا ہے

مرحلہ 1: ایل بی ڈبلیو کی بنیادی شرائط سمجھیں

ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ صرف اس لیے نہیں دیا جاتا کہ گیند بلے باز کے پیڈ سے ٹکرا گئی؛ گیند کا نو بال نہ ہونا، وکٹ کے سامنے جسم سے ٹکرانا، گیند کا وکٹ کی سمت جانا اور بلے باز کا شاٹ کھیلنے کی کوشش کرنا یا نہ کرنا سب ضروری عوامل ہیں۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قانون 36 میں یہی بنیادی ڈھانچا بیان کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل اپنے مقابلوں میں اسی اصول کو ڈی آر ایس کے ذریعے جانچتی ہے۔ اس لیے اپیل کے وقت صرف رابطے کا مقام دیکھنا خطرناک غلطی ہے، کیونکہ پچنگ اور امپیکٹ دونوں الگ مرحلے ہیں۔

قانون کو عملی ترتیب میں یوں پڑھیں:

  1. گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے۔
  2. گیند بلے یا ہاتھ میں پکڑے بلے سے پہلے جسم سے لگنی چاہیے۔
  3. گیند وکٹ کے سامنے یا آف اسٹمپ کی مخصوص حدود میں جسم سے ٹکرائے۔
  4. گیند کا راستہ وکٹوں سے ٹکرانے والا ہونا چاہیے۔
  5. اگر بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی حقیقی کوشش نہیں کی تو آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند بھی ایل بی ڈبلیو بن سکتی ہے۔

یہاں ایک اہم باریکی ہے: گیند کا بلے سے معمولی سا کنارہ لگ جائے تو ایل بی ڈبلیو ختم ہو جاتا ہے، چاہے پیڈ سے رابطہ بھی تقریباً اسی لمحے ہوا ہو۔ اسی لیے سست رفتار ویڈیو میں نظر آنے والا پیڈ رابطہ ہمیشہ قانونی طور پر فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ کرکٹ کے قوانین، میریلی بون کرکٹ کلب

کرکٹ گفتگو میں میچ کے جائزے پڑھتے وقت ایل بی ڈبلیو کو صرف اسکور کارڈ کے ایک لفظ کے طور پر نہ دیکھیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کون سی شرط فیصلہ کن بنی۔

مزید بنیادی اصطلاحات کے لیے کرکٹ کے بنیادی قوانین کی رہنمائی ملاحظہ کریں۔

اگر آپ قانون کو مثالوں کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ مختصر رہنمائی محفوظ کر لیں۔

مزید جانیں

مرحلہ 2: گیند کہاں پِچ ہوئی، یہ فیصلہ کیسے بدلتا ہے؟

گیند کی پچنگ ایل بی ڈبلیو کے فیصلے کا پہلا تکنیکی فلٹر ہے: اگر گیند مکمل طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر پِچ ہو تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا، لیکن آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند پر فیصلہ بلے باز کے شاٹ کھیلنے کی کوشش سے بدل سکتا ہے۔ یہ فرق دائیں ہاتھ کے بلے باز، بائیں ہاتھ کے بلے باز، اسپنر اور سوئنگ باؤلر سب کے لیے یکساں قانونی اہمیت رکھتا ہے۔

آف اسٹمپ سے باہر پچنگ کے معاملے میں دو صورتیں الگ رکھیں:

  • بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی اور گیند پیڈ سے لگی: عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں کی اور گیند جسم سے لگی: وکٹ پر اثر موجود ہو تو آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔
  • لیگ اسٹمپ کے باہر مکمل پچنگ: گیند وکٹوں کی طرف جاتی دکھائی دے تب بھی ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • وکٹ کے سامنے یا آف اسٹمپ کے اندر پچنگ: باقی شرائط پوری ہوں تو فیصلہ ممکن ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں بلے بازوں کی تکنیک مختلف دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی جیسے بائیں ہاتھ کے تیز باؤلر اندر آتی گیند سے پیڈ اور اسٹمپ کے درمیان خلا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ بھارت کے روی چندرن اشون آف اسپن کے ذریعے بیٹر کو فرنٹ فٹ پر روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پچنگ خود کافی نہیں؛ قانون 36 کے تحت امپیکٹ اور متوقع راستہ بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔

میریلی بون کرکٹ کلب کی وضاحت کے مطابق، قانون کا مقصد ہر پیڈ رابطے کو آؤٹ بنانا نہیں بلکہ اس گیند کو جانچنا ہے جو وکٹ کے راستے میں جسم سے روکی گئی ہو۔ اسی لیے گیند کی لائن کو آنکھ سے اندازہ لگانا اکثر ناکافی ہوتا ہے، خصوصاً جب گیند اندر آ رہی ہو یا اسپن کے بعد زاویہ بدل رہی ہو۔

سفید لائنوں والے کرکٹ پچ پر آف اسپن گیند بلے باز کے پیڈ کی جانب اندر آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے

مرحلہ 3: امپیکٹ، شاٹ اور جسمانی رابطہ الگ کریں

ایل بی ڈبلیو میں امپیکٹ سے مراد یہ ہے کہ گیند جسم کے کس حصے سے، کس مقام پر اور وکٹ کے مقابلے میں کہاں ٹکرائی۔ اگر گیند بلے باز کے پیڈ کے باہر لگی، تو فیصلہ اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تھی یا نہیں۔ اگر گیند گھٹنے کے باہر لگی مگر شاٹ کھیلنے کی کوشش واضح تھی، تو صرف وکٹ سے ٹکرانے کی پیش گوئی کافی نہیں ہوگی۔

امپائر کے لیے اہم مشاہدات یہ ہیں:

  1. بلے باز کا اگلا یا پچھلا پاؤں کہاں تھا؟
  2. گیند جسم کے کس حصے سے لگی؟
  3. رابطے کے وقت بلے باز شاٹ کھیل رہا تھا یا گیند چھوڑ رہا تھا؟
  4. گیند سیدھی وکٹوں کی طرف جا رہی تھی یا اسپن کے بعد سمت بدل رہی تھی؟
  5. بلے اور پیڈ کا رابطہ ایک ہی لمحے میں ہوا یا گیند پہلے پیڈ سے لگی؟

ایک عام مگر کم زیر بحث صورت یہ ہے کہ بلے باز کا پاؤں آف اسٹمپ سے باہر ہو، لیکن پیڈ کا اندرونی حصہ وکٹوں کے سامنے ہو۔ قانون پاؤں کی مجموعی پوزیشن نہیں بلکہ گیند کے جسم سے ٹکرانے کے مقام اور باقی شرائط کو دیکھتا ہے۔ اس نکتے کی وجہ سے ٹیلی ویژن پر دکھائی دینے والا فریم اور قانونی تشریح کبھی ایک جیسی محسوس نہیں ہوتی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے ڈی آر ایس پروٹوکول میں ہاک آئی یا گیند کی پیروی کرنے والی ٹیکنالوجی پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کو الگ الگ مرحلوں میں دکھاتی ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی بھی اس سوال کا جواب صرف دستیاب شواہد کی بنیاد پر دیتی ہے کہ گیند کہاں لگی اور آگے کہاں جاتی۔ یہ کوئی نیا فیصلہ تخلیق نہیں کرتی۔

ایل بی ڈبلیو کے ساتھ اکثر کیچ کی اپیل بھی ہوتی ہے۔ اگر گیند پہلے بلے سے لگی ہو، چاہے معمولی اندرونی کنارہ ہی کیوں نہ ہو، ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا؛ اس کے برعکس کیچ کا امکان برقرار رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وکٹ کیپر کی اپیل اور امپائر کا ایل بی ڈبلیو فیصلہ ہمیشہ ایک ہی قانونی بنیاد پر نہیں ہوتا۔

ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی مکمل وضاحت پڑھنے سے اس مرحلے کی مزید باریکیاں واضح ہوں گی۔

مرحلہ 4: ڈی آر ایس اور امپائرز کال کو درست پڑھیں

کیا ڈی آر ایس ہر ایل بی ڈبلیو فیصلے کو قطعی طور پر بدل دیتا ہے؟ نہیں، ڈی آر ایس صرف اس وقت فیصلہ تبدیل کرتا ہے جب دستیاب شواہد فیلڈ امپائر کے فیصلے کے خلاف مقررہ حد تک واضح ہوں؛ امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ میں معمولی مارجن ہونے پر امپائرز کال برقرار رہ سکتی ہے۔ اس نظام میں ٹیکنالوجی مددگار ہے، مگر فیلڈ امپائر کا اصل فیصلہ اب بھی اہم رہتا ہے۔

ڈی آر ایس کا عملی سلسلہ عام طور پر یوں ہوتا ہے:

  • فیلڈ امپائر ابتدائی فیصلہ دیتا ہے۔
  • فیلڈنگ ٹیم مقررہ وقت کے اندر جائزہ مانگتی ہے۔
  • تھرڈ امپائر نو بال، گیند کا بلے سے رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ دیکھتا ہے۔
  • اگر کوئی واضح ثبوت فیصلہ بدلنے کے لیے کافی نہ ہو تو اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔
  • امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ میں حدی صورت کو امپائرز کال کہا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک اہم معلوماتی فرق سمجھنا ضروری ہے: امپائرز کال گیند کے وکٹ سے ٹکرانے کا فیصد نہیں بلکہ ڈی آر ایس کے مقررہ فیصلاتی معیار سے متعلق ہے۔ ہاک آئی کا گرافک بعض اوقات وکٹ کے حصے پر گیند کا معمولی سا راستہ دکھاتا ہے، لیکن اگر وہ راستہ مقررہ حد کے اندر ہو تو نتیجہ اصل فیصلے کے مطابق رہتا ہے۔ اسی لیے “گیند لگ رہی تھی” کہنا کافی نہیں؛ سوال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے کتنی یقینی پیش گوئی کی۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے جائزہ نظام میں ٹیموں کو چیلنج ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اپیل سے پہلے چند سیکنڈ میں رابطے کی نوعیت سمجھنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اگر گیند واضح طور پر بلے سے لگی ہو یا مکمل طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر پِچ ہوئی ہو تو جلد بازی سے جائزہ لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے کھیلنے کے ضوابط

میریلی بون کرکٹ کلب کے قانون کے مطابق بنیادی اصول سادہ ہے: “بلے باز کو اس گیند پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا جو نو بال ہو۔” یہ مختصر شرط کئی متنازع فیصلوں سے پہلے ہی بحث ختم کر دیتی ہے، خاص طور پر جب تیز باؤلر کا اگلا پاؤں کریز سے آگے دکھائی دے۔

ڈی آر ایس کے فیصلوں کا تجزیہ کرتے وقت یہ تین چیزیں الگ لکھیں: پچنگ، امپیکٹ، وکٹ ہٹنگ۔ ایک ہی گرافک کو دیکھ کر تینوں کا نتیجہ اخذ کرنا وہ غلطی ہے جو تجربہ کار ناظرین بھی دباؤ والے لمحات میں کر بیٹھتے ہیں۔

قانون کی تفصیل دیکھیں

مرحلہ 5: فیصلہ درست طور پر جانچیں

کیا ایل بی ڈبلیو اپیل کا تجزیہ کرنے کا قابل اعتماد طریقہ موجود ہے؟ ہاں، ہر اپیل کو پانچ مرحلوں میں جانچیں: نو بال، گیند سے بلے کا رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ۔ اس ترتیب سے دیکھنے پر جذباتی اپیل، شور یا اسکور بورڈ کا دباؤ قانونی حقیقت کو متاثر نہیں کرتا۔

میچ کے دوران یا بعد میں فیصلہ جانچنے کے لیے یہ فہرست استعمال کریں:

  1. باؤلر کا اگلا پاؤں کریز کے پیچھے تھا؟
  2. گیند پہلے بلے سے لگی یا جسم سے؟
  3. گیند مکمل طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر پِچ ہوئی؟
  4. بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی؟
  5. جسم سے رابطہ وکٹ کے سامنے یا قانون کی قابل قبول حد میں تھا؟
  6. گیند اسٹمپ سے ٹکراتی؟
  7. ڈی آر ایس میں امپائرز کال کا امکان موجود تھا؟

اس فہرست کا سب سے مفید عملی فائدہ یہ ہے کہ آپ “پیڈ پر لگی” اور “ایل بی ڈبلیو بنتی تھی” کو دو الگ جملے سمجھتے ہیں۔ ہر پیڈ رابطہ آؤٹ نہیں ہوتا، جس طرح ہر اندر آتی گیند اسٹمپ سے نہیں ٹکراتی۔ پاکستان سپر لیگ، بھارت کی انڈین پریمیئر لیگ اور ٹیسٹ کرکٹ میں شاٹ کا ارادہ، گیند کی رفتار اور اسپن کا زاویہ الگ ہو سکتا ہے، مگر قانونی چیک لسٹ تبدیل نہیں ہوتی۔

اسکور کارڈ میں “ایل بی ڈبلیو” درج ہونا نتیجہ بتاتا ہے، وجہ نہیں۔ تفصیلی میچ رپورٹ میں گیند کا اوور، باؤلر کا انداز، بلے باز کا قدم اور ڈی آر ایس گرافک دیکھیں۔ کرکٹ گفتگو کے تجزیوں میں یہی فرق اہم ہے: عددی نتیجہ محفوظ رہتا ہے، مگر فیصلے کی وجہ سمجھنے سے آئندہ گیند پر حکمت عملی بہتر بنتی ہے۔

ایک اضافی عملی نکتہ یہ ہے کہ غیر جانب دار ناظر پہلے آڈیو یا اپیل نہیں بلکہ سامنے والے کیمرے کا زاویہ دیکھے۔ سامنے سے نظر آنے والی گیند کی لائن بعض اوقات اسکور بورڈ کے روایتی کیمرے سے زیادہ واضح ہوتی ہے، جبکہ اسپن کے لیے اوورہیڈ تصویر زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کا متبادل نہیں، مگر ابتدائی فہم میں مدد دیتی ہے۔

تھرڈ امپائر کے کمرے میں ہاک آئی گرافکس پر پچنگ امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ مرحلے دکھائی دے رہے ہیں

عام غلطیوں کا ازالہ: ایل بی ڈبلیو کیوں غلط سمجھا جاتا ہے؟

ایل بی ڈبلیو کی عام غلطی یہ ہے کہ ناظرین صرف پیڈ سے رابطہ دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں، حالانکہ نو بال، بلے سے پہلے رابطہ، پچنگ اور شاٹ کی کوشش بنیادی قانونی رکاوٹیں ہیں۔ دوسری بڑی غلطی امپائرز کال کو ٹیکنالوجی کی ناکامی سمجھنا ہے، جبکہ یہ مقررہ جائزہ معیار کے اندر اصل فیصلے کو برقرار رکھنے کا اصول ہے۔

یہ غلط فہمیاں خاص طور پر عام ہیں:

  • “پیڈ پر لگی، اس لیے آؤٹ”: غلط؛ باقی شرائط بھی ضروری ہیں۔
  • “آف اسٹمپ سے باہر کی ہر گیند ناٹ آؤٹ ہے”: غلط؛ شاٹ نہ کھیلنے کی صورت میں قانون مختلف ہو سکتا ہے۔
  • “ڈی آر ایس نے گیند وکٹ کو چھوتی دکھائی، اس لیے فیصلہ ضرور بدلے گا”: غلط؛ امپائرز کال موجود ہو سکتی ہے۔
  • “بلے باز کا پاؤں باہر تھا، اس لیے ایل بی ڈبلیو نہیں”: ہمیشہ درست نہیں؛ گیند کے جسم سے لگنے کی جگہ اہم ہے۔
  • “اپیل جتنی بلند ہو، فیصلہ اتنا مضبوط ہے”: مکمل طور پر غلط؛ شور قانونی ثبوت نہیں۔

قانون 36 کے اطلاق میں سب سے پیچیدہ صورت وہ ہے جس میں گیند پیڈ اور بلے کے قریب ایک ہی وقت میں پہنچتی ہے۔ ایسے موقع پر الٹرا ایج، سنکو میٹر یا دستیاب ویڈیو ثبوت دیکھا جاتا ہے، مگر ہر مقابلے میں ٹیکنالوجی کی سطح یکساں نہیں ہوتی۔ مقامی کرکٹ میں ڈی آر ایس نہ ہو تو فیلڈ امپائر کا فیصلہ حتمی رہتا ہے، جبکہ بین الاقوامی میچ میں جائزہ نظام اضافی شواہد فراہم کرتا ہے۔

کھیل کے قوانین ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امپائر کو اپیل، کھلاڑی کی شہرت یا سابقہ فیصلوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ یہی اصول ناظرین پر بھی لاگو ہوتا ہے: باؤلر شاہین شاہ آفریدی ہو یا روی چندرن اشون، قانون نام نہیں بلکہ گیند کی صورتحال دیکھتا ہے۔ اسی طرح بلے باز بابر اعظم، ویرات کوہلی یا کسی نئے کھلاڑی کا ہونا ایل بی ڈبلیو کی شرائط نہیں بدلتا۔

مزید متنازع مثالوں کے لیے کرکٹ امپائرنگ کی عام غلطیاں دیکھیں۔ اگر کسی فیصلے میں شک ہو تو پہلے سات نکاتی فہرست مکمل کریں، پھر رائے قائم کریں؛ یہی طریقہ جذباتی تجزیے سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔

اختتام سے پہلے بنیادی نتیجہ صاف ہے: ایل بی ڈبلیو کو سمجھنے کے لیے گیند کے پورے سفر کو دیکھیں، صرف آخری پیڈ رابطے کو نہیں۔ پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ تین الگ سوال ہیں، جبکہ نو بال اور بلے سے رابطہ ابتدائی طور پر فیصلہ ختم بھی کر سکتے ہیں۔ 2026 میں ڈی آر ایس نے جائزہ زیادہ بصری بنا دیا ہے، مگر قانون 36 کی اصل منطق وہی ہے جو امپائر میدان میں استعمال کرتا ہے۔ میچ دیکھتے وقت اپیل پر فوراً فیصلہ دینے کے بجائے پانچ مرحلوں والی ترتیب اپنائیں، اور امپائرز کال کو مقررہ نظام کا حصہ سمجھیں، خرابی نہیں۔

کرکٹ میں باؤلنگ لائن اور لینتھ کی حکمت عملی آپ کو ایل بی ڈبلیو کے پیچھے موجود باؤلنگ منصوبہ بھی سمجھنے میں مدد دے گا۔

اس مکمل رہنمائی کو اپنے اگلے ٹیسٹ، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران بطور فوری چیک لسٹ استعمال کریں۔

مزید رہنمائیاں پڑھیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو وہ آؤٹ ہے جس میں بلے باز کا جسم گیند کو وکٹ سے ٹکرانے سے روکتا ہے اور قانون 36 کی تمام شرائط پوری ہوتی ہیں۔ گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے، پہلے بلے سے نہیں لگنی چاہیے، اور پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ صرف پیڈ سے رابطہ ہونا کافی نہیں ہوتا۔

سوال: ایل بی ڈبلیو فیصلہ کیسے چیک کیا جاتا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو فیصلہ نو بال، بلے سے رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کی ترتیب سے چیک کیا جاتا ہے۔ ڈی آر ایس میں تھرڈ امپائر ہاک آئی اور دستیاب ویڈیو شواہد کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ حدی صورت میں ہو تو امپائرز کال کے باعث فیلڈ امپائر کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

سوال: آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں دیا جاتا؟

جواب: آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند پر شاٹ کھیلنے کی کوشش کی جائے تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ اگر بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہ کی ہو تو قانون کے تحت فیصلہ ممکن ہو سکتا ہے، بشرطیکہ گیند جسم سے قابل قبول مقام پر لگے اور وکٹ سے ٹکرانے والی ہو۔ لیگ اسٹمپ کے باہر مکمل پچنگ الگ صورت ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: بولڈ میں گیند براہ راست وکٹ سے ٹکراتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں جسم گیند کو وکٹ تک پہنچنے سے روکتا ہے۔ بولڈ کے لیے گیند کا اسٹمپ سے ٹکرانا کافی ہو سکتا ہے، لیکن ایل بی ڈبلیو میں نو بال، بلے سے رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور شاٹ کی کوشش جیسی اضافی شرائط دیکھی جاتی ہیں۔

سوال: امپائرز کال ہونے پر ایل بی ڈبلیو فیصلہ کیوں نہیں بدلتا؟

جواب: امپائرز کال اس وقت ہوتی ہے جب ڈی آر ایس کا نتیجہ مقررہ حدی معیار میں ہو اور ٹیکنالوجی فیلڈ امپائر کے فیصلے کو واضح طور پر غلط ثابت نہ کرے۔ یہ ٹیکنالوجی کی خرابی نہیں بلکہ جائزہ نظام کا حصہ ہے۔ پچنگ، امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ میں حدی صورت کے مطابق اصل فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

سوال: کیا ایل بی ڈبلیو کے لیے ڈی آر ایس ضروری ہے؟

جواب: نہیں، ایل بی ڈبلیو کے لیے ڈی آر ایس ضروری نہیں کیونکہ فیلڈ امپائر دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دے سکتا ہے۔ مقامی اور بہت سے کلب مقابلوں میں فیلڈ امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مقابلوں میں ٹیم مقررہ وقت کے اندر جائزہ مانگ سکتی ہے۔ ڈی آر ایس صرف اضافی تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔

سوال: اگر گیند پہلے بلے سے لگی اور پھر پیڈ سے ٹکرائی تو کیا ایل بی ڈبلیو ہوگا؟

جواب: اگر گیند پہلے بلے سے لگی ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں کیچ یا دیگر آؤٹ کے امکانات الگ سے دیکھے جا سکتے ہیں، لیکن جسم سے بعد کا رابطہ ایل بی ڈبلیو کی بنیاد نہیں بنتا۔ الٹرا ایج یا ویڈیو شواہد اسی ترتیب کو جانچنے میں مدد دیتے ہیں۔

پڑھنے کے لیے شکریہ۔

کرکٹ گفتگو · The Journal · Issue 01 · 2024

متعلقہ مضامین