مواد پر جائیں مواد پر جائیں
Reading: 2026 میں کرکٹ بیٹنگ کے وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا  //  21 اکتوبر، 2026  //  5 min read  // 
جرنل پر واپس مضمون

2026 میں کرکٹ بیٹنگ کے وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

کرکٹ بیٹنگ بہتر بنانے کا اصل طریقہ طاقت سے زیادہ فٹ ورک، گیند کو جلد پڑھنے، درست شاٹ سلیکشن اور مسلسل پریکٹس کا امتزاج ہے۔ پاکستان، بھارت اور سری لنکا جیسے خطوں میں ہر پچ، گیند اور میچ فارمیٹ کے مطابق...

21 اکتوبر، 2026
5 min read
2026 میں کرکٹ بیٹنگ کے وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

2026 میں کرکٹ بیٹنگ کے وہ راز جو کوئی نہیں بتاتا

کرکٹ بیٹنگ بہتر بنانے کا اصل طریقہ طاقت سے زیادہ فٹ ورک، گیند کو جلد پڑھنے، درست شاٹ سلیکشن اور مسلسل پریکٹس کا امتزاج ہے۔ پاکستان، بھارت اور سری لنکا جیسے خطوں میں ہر پچ، گیند اور میچ فارمیٹ کے مطابق بیٹنگ پلان بدلنا ضروری ہوتا ہے۔ کرکٹ گفتگو کے مطابق روزانہ 30 منٹ کی منظم مشق، 10 منٹ کا تھرو ڈاؤن اور کم از کم 20 گیندوں کا فیصلہ سازی سیشن نمایاں فرق پیدا کر سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ وکٹ کی حفاظت اہم ہے، جبکہ ون ڈے میں پاور پلے کے 10 اوورز اور ٹیسٹ کرکٹ میں دفاعی تکنیک بنیادی ترجیحات ہیں۔ پہلے بیلنس، پھر ٹائمنگ، آخر میں طاقت پر توجہ دیں؛ ہر نیٹ سیشن کے بعد تین غلطیوں کا تحریری جائزہ لے کر اگلی مشق کا ہدف مقرر کریں۔

Sweet Bonanza Xmas · Free demo

مزید جانیں

پاکستان کے ڈومیسٹک میدان میں بلے باز نیٹ پریکٹس کے دوران فٹ ورک درست کرتا ہوا

پہلا قدم: بیٹنگ کا بنیادی توازن کیسے درست کریں؟

بیٹنگ کا بنیادی توازن سر، اگلے گھٹنے اور پچھلے پاؤں کی درست ترتیب سے بنتا ہے؛ اگر سر گیند کی لائن سے باہر ہو تو بہترین بلّا بھی قابلِ اعتماد شاٹ نہیں دے سکتا۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے بایاں کندھا گیند کی سمت رہنا چاہیے، جبکہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے یہی اصول دائیں کندھے پر لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے کوچنگ مواد اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی تکنیکی رہنمائی میں بھی بیلنس، آنکھ اور ہاتھ کے تال میل کو بنیادی مہارت سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ آئینے کے سامنے 20 بار گارڈ لینا، 20 بار دفاعی پوزیشن روکنا اور 20 بار فرنٹ فٹ آگے رکھنا ابتدائی اصلاح کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ ہر تکرار میں جسم کا وزن قابو میں رہے۔

پہلے اپنی اسٹانس کی چوڑائی ناپیں؛ بہت کھلا اسٹانس آف سائیڈ پر رسائی کم کرتا ہے اور بہت بند اسٹانس ہپ کی حرکت محدود کر دیتا ہے۔ پھر سر کو دونوں آنکھوں کے درمیان متوازن رکھیں اور بلے کو جسم سے غیرضروری طور پر دور نہ لے جائیں۔ ایک اہم مگر نظرانداز شدہ نکتہ یہ ہے کہ نیٹ میں صرف تیز گیندیں کھیلنے سے ٹائمنگ نہیں بنتی؛ 60 سے 70 فیصد مشق درمیانی رفتار کی گیندوں پر ہونی چاہیے تاکہ جسم اور دماغ گیند کے عروج، رفتار اور باؤنس کو پڑھنا سیکھیں۔ ابتدائی کرکٹ بیٹنگ گائیڈ میں گارڈ، گرفت اور اسٹانس کی مزید ترتیب دیکھی جا سکتی ہے۔

عملی مشق

  • دیوار کے سامنے سر کی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے دفاعی شاٹ کھیلیں۔
  • کوچ سے کہیں کہ وہ کبھی آف اسٹمپ، کبھی مڈل اسٹمپ اور کبھی لیگ اسٹمپ پر گیند ڈالے۔
  • ہر 12 گیندوں کے بعد دیکھیں کہ آپ کا اگلا پاؤں گیند کی لائن میں پہنچا یا نہیں۔
  • اگر سر پہلے گر رہا ہو تو طاقت کم کریں اور صرف بیٹ کے مرکز سے رابطے پر توجہ دیں۔

دوسرا قدم: گیند کو جلد پڑھنے کی مہارت کیسے بنائیں؟

گیند کو جلد پڑھنے کی مہارت کا آغاز بولر کے ہاتھ سے نہیں بلکہ رن اپ، کلائی، انگلیوں اور ریلیز پوائنٹ کے مشاہدے سے ہوتا ہے۔ تقریباً 0.4 سے 0.6 سیکنڈ میں بیٹسمین کو رفتار، لائن اور باؤنس کا اندازہ لگانا پڑتا ہے، اس لیے آخری لمحے کا ردعمل قابلِ اعتماد حکمت عملی نہیں۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کے خلاف کندھے کی گردش اور کلائی کی سمت پر نظر رکھیں؛ آف اسپنر کے خلاف انگلیوں کا رخ اور ریلیز کی اونچائی زیادہ مفید اشارے دیتے ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا کے کوچنگ وسائل میں بھی گیند کی ابتدائی پرواز کو پڑھنے اور سر کو ساکن رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اس مہارت کے لیے تین مرحلوں والی مشق کریں۔ پہلے مرحلے میں ساتھی صرف بولر کی رفتار کا اندازہ لگائے اور آپ گیند نہ کھیلیں؛ دوسرے مرحلے میں صرف لائن بتائیں؛ تیسرے مرحلے میں دفاع یا حملے کا فیصلہ کریں۔ یہ طریقہ شاٹ کھیلنے سے پہلے معلومات جمع کرنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔ ایک مفید معلوماتی نکتہ یہ ہے کہ اسپن کے خلاف گیند کو صرف گھومتے ہوئے دیکھنا کافی نہیں؛ پچ پر گرنے کے بعد اس کی رفتار کم یا تیز ہونے کو بھی نوٹ کریں، کیونکہ ایک ہی آف اسپن گیند سست پچ پر رک سکتی ہے اور سخت پچ پر تیزی سے بیٹ تک آ سکتی ہے۔ یہی فرق ایشیا کی خشک پچوں اور انگلینڈ کی سبز پچوں پر شاٹ سلیکشن بدل دیتا ہے۔

اپنی نظر اور ردعمل کی تربیت یہاں سے منظم کریں۔

مزید جانیں

لاہور کے انڈور کرکٹ مرکز میں کوچ ریلیز پوائنٹ کی مشق کے دوران نوجوان بلے باز کو ہدایات دیتا ہوا

تیسرا قدم: شاٹ سلیکشن اور رنز بنانے کا منصوبہ کیا ہو؟

شاٹ سلیکشن کا درست منصوبہ گیند کی لائن، لمبائی، فیلڈ اور میچ کی صورتِ حال کے چار سوالوں سے بنتا ہے۔ فل لینتھ گیند پر فرنٹ فٹ ڈرائیو، شارٹ گیند پر کنٹرولڈ پل یا دفاع، اور آف اسٹمپ سے باہر گیند پر چھوڑنے کا فیصلہ بنیادی مثالیں ہیں۔ اگر اسکور بورڈ پر پاکستان کو آخری پانچ اوورز میں 55 رنز درکار ہوں تو ہر گیند پر چھکا تلاش کرنا غلط ہے؛ سنگل، ڈبل اور منتخب باؤنڈری کا تناسب زیادہ قابلِ عمل ہوتا ہے۔ ایم سی سی کے قوانینِ کرکٹ کے مطابق کھیل کی قانونی حدود سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ کریز سے باہر نکلنا، شارٹ رن یا فیلڈنگ پابندی کا غلط اندازہ رنز کی قیمت بدل سکتا ہے۔

پہلے اپنی تین محفوظ رنز والی سمتیں طے کریں، پھر دو حملہ آور شاٹس منتخب کریں اور آخر میں خطرناک شاٹس کی فہرست بنائیں۔ مثال کے طور پر کور ڈرائیو تبھی کھیلیں جب گیند جسم سے مناسب فاصلے پر ہو؛ ورنہ اندرونی کنارے یا کیچ کا خطرہ بڑھتا ہے۔ “ہر گیند باؤنڈری کے لیے نہیں ہوتی” ایک سادہ جملہ ہے، مگر اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ گیند کی قابلیت اور فیلڈ کی دستیابی ایک دوسرے سے ملنی چاہیے۔ معلوماتی طور پر یہ بھی یاد رکھیں کہ ٹی ٹوئنٹی میں پاور پلے کے دوران فیلڈنگ دائرے کی پابندیاں حملہ آسان کرتی ہیں، لیکن وکٹ گنوانے کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے؛ اس لیے پہلے دو اوورز میں 12 سے 18 رنز اور صفر وکٹ کا ہدف اکثر اندھی طاقت سے بہتر منصوبہ ہے۔

رنز بنانے کا فیصلہ کن جدول

  1. فل لینتھ اور آف اسٹمپ کے اندر گیند: سیدھا ڈرائیو یا کور کے سامنے محفوظ شاٹ۔
  2. گڈ لینتھ گیند: دفاع، نرم ہاتھ یا سنگل کے لیے زاویہ۔
  3. شارٹ گیند: باؤنس کے مطابق پل، کٹ یا مکمل چھوڑنا۔
  4. وائیڈ یارکر: بیٹ کا چہرہ کھول کر سنگل، مگر جسم کو حد سے زیادہ نہ پھیلائیں۔
  5. اسپن کی سست گیند: قدم آگے یا مکمل پیچھے؛ درمیان میں پھنسنا خطرناک ہے۔

اپنے کھیل کے لیے ٹی ٹوئنٹی شاٹ سلیکشن حکمت عملی بھی دیکھیں۔

چوتھا قدم: پاور ہٹنگ اور ٹائمنگ میں کیا فرق ہے؟

پاور ہٹنگ کا مطلب صرف زور سے بلّا گھمانا نہیں؛ اس میں بیٹ کی رفتار، جسمانی وزن کی منتقلی، رابطے کا مقام اور فالو تھرو شامل ہوتے ہیں۔ ٹائمنگ اس وقت بہتر ہوتی ہے جب گیند کے قریب پہنچنے سے پہلے سر ساکن، اگلا پاؤں متوازن اور ہاتھ نرم ہوں۔ طاقت پیدا کرنے کے لیے کولہے اور کندھے ایک ساتھ گھومیں، مگر سر گیند کی لائن سے نہ ہٹے۔ اگر بیٹ کا مرکز گیند سے مل رہا ہے تو 70 فیصد قوت بھی کافی رنز دے سکتی ہے؛ غلط رابطے پر 100 فیصد طاقت صرف کیچ کا امکان بڑھاتی ہے۔

پہلے ہلکے بلے سے 30 کنٹرولڈ سوئنگ کریں، پھر معمول کے بلے سے 30 گیندیں کھیلیں اور ہر شاٹ کا رابطہ نوٹ کریں۔ بھاری بلّا فوراً استعمال کرنا کلائی، کہنی اور کمر پر غیرضروری دباؤ ڈال سکتا ہے؛ خاص طور پر 16 سال سے کم عمر کھلاڑی کے لیے بلے کا وزن کوچ یا فزیوتھراپسٹ کے مشورے سے منتخب ہونا چاہیے۔ ایک عملی edge case یہ ہے کہ باؤنڈری کی لمبائی 60 میٹر سے 75 میٹر ہونے پر وہی شاٹ جو چھکا بن رہا تھا، کیچ یا دو رنز بن سکتا ہے؛ اس لیے گراؤنڈ کے سائز کو وارم اپ سے پہلے ناپیں اور ہدف اسی کے مطابق بدلیں۔ اسپورٹس انجری سے بچاؤ کی رہنمائی میں جسمانی تیاری اور بوجھ بڑھانے کے اصول بھی مفید ہیں۔

پریکٹس کو کھیل کی صورتِ حال کے قریب لانے کے لیے یہ ترتیب اپنائیں:

  • 10 گیندیں صرف دفاع کے لیے۔
  • 10 گیندیں سنگل اور ڈبل کے لیے۔
  • 10 گیندیں مقررہ باؤنڈری زون کے لیے۔
  • 10 گیندیں یارکر، باؤنسر اور سست گیند کے امتزاج کے خلاف۔
  • آخر میں 6 گیندوں کا ہدف، مثلاً 9 رنز، مگر صرف دو حملہ آور شاٹس کی اجازت۔

کراچی کے کرکٹ گراؤنڈ میں بلے باز لمبے شاٹ کی مشق کرتے ہوئے، کوچ فیلڈ کی پوزیشن نوٹ کرتا ہوا

پانچواں قدم: پیش رفت کی تصدیق کیسے کریں؟

پیش رفت کی تصدیق رنز سے پہلے قابلِ پیمائش عمل سے کریں، کیونکہ ایک مختصر اننگز کا اسکور تکنیکی معیار کی مکمل تصویر نہیں دیتا۔ ہر نیٹ سیشن میں کم از کم پانچ اعداد لکھیں: گیندوں کی تعداد، صاف رابطے، غلط شاٹس، چھوڑنے والی گیندیں اور وکٹ گنوانے کی وجہ۔ اگر 60 گیندوں میں صاف رابطہ 32 سے بڑھ کر 42 ہو جائے، غلط شاٹس 18 سے کم ہو کر 10 رہیں اور وکٹ صرف ایک بار گرے، تو تکنیک میں واضح بہتری ہے چاہے اسکور صرف 35 رنز ہو۔

ہر ہفتے ویڈیو سے تین زاویے دیکھیں: سامنے سے سر اور اگلے پاؤں کی لائن، سائیڈ سے بیٹ کا راستہ، اور پیچھے سے آف اسٹمپ کی کوریج۔ صرف بہترین شاٹس محفوظ نہ کریں؛ وہ گیندیں بھی نشان زد کریں جن پر جسم جلد کھلا، بیٹ دیر سے آیا یا آنکھ گیند سے ہٹی۔ “اعداد فیصلہ نہیں کرتے، مگر غلطی کو چھپنے نہیں دیتے” اس عمل کا درست خلاصہ ہے۔ مہینے کے آخر میں فاسٹ بولنگ، اسپن، باؤنسر اور یارکر کے الگ نتائج نکالیں، کیونکہ مجموعی اوسط اکثر ایک مخصوص کمزوری کو چھپا دیتی ہے۔ کرکٹ بیٹنگ کے اعداد و شمار سمجھنے کا طریقہ اس جائزے کو مزید منظم بنا سکتا ہے۔

ہفتہ وار جانچ فہرست

  • کیا سر گیند کی لائن کے اوپر رہا؟
  • کیا اگلا قدم گیند کی لمبائی کے مطابق تھا؟
  • کیا حملہ آور شاٹ فیلڈ کے خالی حصے میں کھیلا گیا؟
  • کیا غلطی تکنیکی تھی یا فیصلہ سازی کی؟
  • کیا تھکن کے آخری 15 منٹ میں فارم خراب ہوئی؟

اگر آپ اپنی ترقی کو باقاعدہ ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں تو یہ عملی خلاصہ محفوظ کریں۔

مزید جانیں

عام ناکامیوں کا حل کیا ہے؟

عام ناکامی کا حل یہ ہے کہ غلطی کو صرف “فارم خراب ہے” کہنے کے بجائے اس کی قسم، وقت اور محرک کو الگ کیا جائے۔ اگر کھلاڑی مسلسل بولڈ ہو رہا ہے تو بیٹ کا زاویہ، اگر وکٹ کیپر کو کنارے دے رہا ہے تو سر کی پوزیشن، اور اگر اسپن پر اسٹمپ ہو رہا ہے تو قدموں کا فیصلہ جانچیں۔ ایک ہی علاج ہر مسئلے پر لاگو نہیں ہوتا؛ ویڈیو، اعداد اور کوچ کی مشاہداتی رائے کو ساتھ رکھنا زیادہ درست نتیجہ دیتا ہے۔

اگر پہلے 10 گیندوں میں دو غلط شاٹس ہوں تو فوراً بڑا شاٹ روکیں اور اگلی چھ گیندیں صرف دفاع یا سنگل کے لیے رکھیں۔ اگر باؤنسر سے خوف محسوس ہو تو ہیلمٹ، گردن اور آنکھوں کی حفاظت پہلے یقینی بنائیں؛ خطرناک گیند کے خلاف غیرضروری پل کھیلنا ترقی نہیں، ناقص خطرہ ہے۔ گرِپ بدلنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ مسئلہ واقعی ہاتھوں کا ہے یا پاؤں دیر سے پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور مقامی کوچنگ پروگراموں میں بنیادی تکنیک کے بعد مخصوص کمزوری پر الگ ڈرلز استعمال کی جاتی ہیں، اس لیے مشق کو تشخیص سے شروع کریں، مایوسی سے نہیں۔

مسئلہ اور فوری اصلاح

  • اندرونی کنارے لگنا: سر گیند سے دور ہے؛ بیٹ کو جسم کے قریب لائیں۔
  • کور پر کیچ: آف اسٹمپ سے باہر گیند پر ڈرائیو روکیں۔
  • اسپن پر مس ہونا: یا تو مکمل آگے جائیں یا مکمل پیچھے، آدھا قدم نہ لیں۔
  • یارکر پر بولڈ ہونا: بیٹ نیچے لانے کی مشق کریں اور کریز میں گہرا نہ کھڑے ہوں۔
  • آخر میں تھکن: وارم اپ، پانی، وقفہ اور کم حجم کی معیاری مشق شامل کریں۔

نتیجہ: کرکٹ بیٹنگ بہتر بنانے کا عملی فارمولا

کرکٹ بیٹنگ بہتر بنانے کا عملی فارمولا پانچ حصوں پر قائم ہے: متوازن اسٹانس، ابتدائی ریلیز پڑھنا، فیلڈ کے مطابق شاٹ سلیکشن، ٹائمنگ پر مبنی پاور اور اعداد سے تصدیق۔ پہلے دو ہفتوں میں صرف بنیادی توازن اور دفاع درست کریں، تیسرے ہفتے میں سنگل، ڈبل اور مخصوص باؤنڈری زون شامل کریں، پھر میچ جیسی چھ گیندوں کی صورتِ حال آزمائیں۔ ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کے لیے الگ اہداف لکھیں، کیونکہ ایک ہی اسٹرائیک ریٹ ہر فارمیٹ میں کامیابی نہیں بتاتا۔ کرکٹ گفتگو کا مقصد بھی یہی ہے کہ بیٹنگ کو محض خوبصورت شاٹس کے بجائے قابلِ تکرار فیصلوں، محفوظ تکنیک اور واضح اعداد کے ذریعے سمجھا جائے۔

اگلے نیٹ سیشن سے پہلے صرف ایک کمزوری منتخب کریں، مثلاً آف اسٹمپ سے باہر گیند چھوڑنا یا اسپن کے خلاف قدم آگے بڑھانا، اور 40 سے 60 گیندوں تک اسی پر کام کریں۔ ایک ساتھ گرفت، اسٹانس، شاٹ اور طاقت بدلنے سے وجہ اور نتیجہ الگ نہیں رہتے۔ یاد رکھیں، مستقل 35 رنز اکثر بے قابو 70 رنز سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، کیونکہ پہلا طریقہ دوبارہ دہرایا جا سکتا ہے۔

اپنی اگلی مشق کو واضح منصوبے کے ساتھ شروع کرنے کا وقت اب ہے۔

مزید جانیں

عام سوالات

سوال: کرکٹ بیٹنگ بہتر بنانے کا سب سے پہلا طریقہ کیا ہے؟

جواب: سب سے پہلا طریقہ متوازن اسٹانس، ساکن سر اور درست فٹ ورک قائم کرنا ہے۔ روزانہ 20 دفاعی پوزیشن، 20 فرنٹ فٹ حرکتیں اور 20 بیک فٹ حرکتیں آئینے یا نرم گیند کے ساتھ دہرائیں۔ جب جسم گیند کی لائن میں پہنچنے لگے تو شاٹ کی طاقت کے بجائے رابطے کے معیار پر توجہ دیں۔

سوال: گھر پر کرکٹ بیٹنگ کی پریکٹس کیسے کی جا سکتی ہے؟

جواب: گھر پر نرم گیند، دیوار اور محدود جگہ کے ذریعے دفاع، ردعمل اور بیٹ کا راستہ بہتر کیا جا سکتا ہے۔ دیوار سے 15 سے 20 نرم تھرو کریں، ہر بار بیٹ کے مرکز سے رابطہ اور سر کی پوزیشن دیکھیں۔ شیشے، فرنیچر اور دوسرے افراد سے محفوظ فاصلہ رکھیں، جبکہ تیز یا سخت گیند کی مشق صرف مناسب میدان میں کریں۔

سوال: ٹائمنگ اور پاور ہٹنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: ٹائمنگ گیند کے صحیح لمحے اور بیٹ کے مرکز سے رابطے کا نام ہے، جبکہ پاور ہٹنگ میں جسمانی قوت اور بیٹ کی رفتار شامل ہوتی ہے۔ اچھی ٹائمنگ کم قوت سے بھی باؤنڈری دے سکتی ہے، مگر غلط رابطے پر طاقت فائدہ نہیں دیتی۔ پہلے 30 کنٹرولڈ شاٹس کھیلیں، پھر طاقت بڑھائیں اور ہر شاٹ کا رابطہ ریکارڈ کریں۔

سوال: آف اسپن کے خلاف بیٹنگ کیوں ناکام ہوتی ہے؟

جواب: آف اسپن کے خلاف بیٹنگ عموماً آدھے قدم، غلط لائن اور گیند کی رفتار نہ پڑھنے کی وجہ سے ناکام ہوتی ہے۔ یا تو مکمل آگے بڑھ کر پچ پر گیند کو ملیں یا مکمل پیچھے ہٹ کر باؤنس کا انتظار کریں۔ 24 گیندوں کی مشق میں دفاع، سنگل اور قدم آگے بڑھا کر کھیلنے والے شاٹس کو الگ الگ شمار کریں۔

سوال: کرکٹ بیٹنگ بہتر کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

جواب: بنیادی تکنیک میں قابلِ مشاہدہ بہتری عموماً چار سے چھ ہفتوں کی منظم مشق میں آ سکتی ہے۔ ہفتے میں چار سیشن، ہر سیشن 45 سے 60 منٹ، اور ہر مشق کے بعد تحریری جائزہ ضروری ہے۔ اگر کھلاڑی صرف میچ کھیلے اور تکنیکی غلطی الگ سے نہ درست کرے تو وقت زیادہ لگے گا، چاہے اس کے رنز کبھی کبھار بڑھ جائیں۔

سوال: اگر نیٹ میں شاٹس اچھے ہوں مگر میچ میں ناکام رہوں تو کیا کروں؟

جواب: نیٹ اور میچ کے فرق کو ہدف، دباؤ اور فیصلہ سازی کی مشق سے کم کریں۔ نیٹ میں چھ گیندوں کے چھوٹے اہداف بنائیں، مثلاً تین رنز، وکٹ محفوظ رکھنا یا صرف آف سائیڈ سنگل لینا۔ میچ سے پہلے پہلی 12 گیندوں کا منصوبہ لکھیں اور ہر گیند کے بعد نتیجے کے بجائے فیصلے کا جائزہ لیں۔

سوال: کیا بھاری بلّا بیٹنگ بہتر بناتا ہے؟

جواب: بھاری بلّا خود بخود بیٹنگ بہتر نہیں بناتا؛ درست وزن وہ ہے جسے کھلاڑی توازن کے ساتھ مسلسل کنٹرول کر سکے۔ اگر بلّا سوئنگ کے دوران رک جائے، کلائی دبے یا سر حرکت کرے تو وزن زیادہ ہے۔ پہلے ہلکے بلے سے تکنیک اور ٹائمنگ درست کریں، پھر کوچ کی نگرانی میں وزن معمولی مقدار میں بڑھائیں۔

پڑھنے کے لیے شکریہ۔

کرکٹ گفتگو · The Journal · Issue 01 · 2024

متعلقہ مضامین