2026 کرکٹ رن ریٹ: 5 درست اصول
کرکٹ میں رن ریٹ نکالنے کا بنیادی طریقہ کل رنز کو متعلقہ اوورز سے تقسیم کرنا ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ میں ٹیم کے رن بنانے کی شرح سے حریف کو دیے گئے رنز کی شرح منہا کی جاتی ہے۔ محدود اوورز کی کرکٹ، خصوصاً ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ مقابلوں میں، یہی حساب پوائنٹس برابر ہونے پر درجہ بندی بدل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹ رنز فی اوور ہے، جبکہ ۱۷۰ رنز کے جواب میں حریف کی شرح ۸٫۵۰ بنتی ہے؛ فرق ٹیم کے لیے مثبت ۰٫۵۰ ہوگا۔ اگر ٹیم مقررہ اوور مکمل ہونے سے پہلے آل آؤٹ ہو جائے تو این آر آر میں عموماً پورے مختص اوورز استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ حقیقی کھیلے گئے اوورز۔ بارش والے میچ میں ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے نظرثانی شدہ اعداد اہم ہوتے ہیں۔ درست حساب کے لیے اسکور، اوورز، آل آؤٹ کی صورت اور میچ کا نتیجہ الگ الگ درج کریں۔

کرکٹ گفتگو پر میچ کا جائزہ، کھلاڑیوں کے اعداد، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ و باؤلنگ حکمت عملی اسی لیے رن ریٹ کو صرف ایک عدد نہیں سمجھتے؛ یہ میچ کی رفتار، دباؤ اور ٹورنامنٹ کی صورتحال کا خلاصہ بھی ہے۔ ایک اہم احتیاط یہ ہے کہ رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ ایک چیز نہیں: پہلے میں ایک ٹیم کی بیٹنگ رفتار دیکھی جاتی ہے، دوسرے میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں کی شرح کا فرق شامل ہوتا ہے۔ ابتدائی کرکٹ اعداد و شمار کی رہنمائی میں بنیادی اسکورنگ اصطلاحات الگ سے دیکھی جا سکتی ہیں، مگر یہاں حساب کی وہ باریکیاں بھی شامل ہیں جنہیں عام مختصر وضاحتیں چھوڑ دیتی ہیں، مثلاً ۱۹٫۳ اوورز کو اعشاریہ ۱۹٫۳ نہیں بلکہ ۱۹ اوور اور ۳ گیند سمجھنا۔ اسی مقام پر زیادہ تر غلط حساب شروع ہوتا ہے۔
اگر آپ بنیادی فارمولا محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو یہ رہنمائی آگے پڑھیں۔
غلط فہمی ۱: رن ریٹ صرف حاصل کیے گئے رنز کو اوورز سے تقسیم کرنا ہے — نامکمل سچ
یہ بات ایک میچ کی بیٹنگ شرح کے لیے درست ہے، مگر مکمل رن ریٹ تجزیے کے لیے کافی نہیں۔ کسی ٹیم کا بیٹنگ رن ریٹ برابر ہے: حاصل کیے گئے کل رنز ÷ استعمال کیے گئے قانونی اوورز۔ مثال کے طور پر پاکستان نے ۴۰ اوورز میں ۳۶۰ رنز بنائے تو شرح ۹٫۰۰ ہے؛ اگر سری لنکا نے اسی میچ میں ۲۸۰ رنز بنائے تو اس کی شرح ۷٫۰۰ ہوگی۔ لیکن پاکستان کا نیٹ رن ریٹ اس میچ میں مثبت ۲٫۰۰ اور سری لنکا کا منفی ۲٫۰۰ ہوگا، کیونکہ ہر ٹیم کے لیے حریف کی بیٹنگ شرح ہی اس کی باؤلنگ کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مقابلہ جاتی قواعد میں ٹورنامنٹ کی مخصوص شرائط کو ہمیشہ ترجیح حاصل ہوتی ہے، اس لیے جدول میں دکھایا گیا عدد حتمی ماننے سے پہلے ایونٹ کے ضابطے دیکھنا ضروری ہے۔ یہی فرق میچ کے رن ریٹ اور پورے گروپ کے این آر آر کو الگ کرتا ہے۔
حساب کے بنیادی مراحل یہ ہیں:
- ٹیم کے تمام حاصل کیے گئے رنز جمع کریں۔
- ان رنز کو بیٹنگ کے قانونی اوورز سے تقسیم کریں۔
- حریف کو دیے گئے رنز اور باؤلنگ کے اوورز الگ جمع کریں۔
- بیٹنگ شرح میں سے حریف کی شرح منہا کریں۔
- نتیجے کو عموماً دو اعشاری جگہ تک لکھیں، مگر اصل جدول کے قواعد دیکھیں۔
ایک عملی نکتہ یاد رکھیں: ۱۹٫۳ اوور کا مطلب ۱۹ اوور اور ۳ گیند ہے، یعنی ۱۱۷ قانونی گیندیں؛ اسے ریاضی میں ۱۹٫۳ اوور لکھنا درست نہیں۔ اسے اوور میں بدلنے کے لیے ۱۱۷ کو ۶ سے تقسیم کریں، نتیجہ ۱۹٫۵ اوور بنتا ہے۔ اس فرق سے شرح خاصی بدل سکتی ہے، خاص طور پر ۲۰ اوور کے مقابلے میں جہاں ایک گیند تقریباً ۰٫۸۳ فیصد اوور کے برابر ہے۔ اسکور کارڈ پڑھنے کا مکمل طریقہ اس غلطی سے بچنے کے لیے مفید ہے۔

غلط فہمی ۲: آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کے لیے صرف کھیلے گئے اوور گنے جاتے ہیں — جزوی طور پر درست
آل آؤٹ ٹیم کے لیے عموماً پورے مختص اوورز استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۰ اوور کے اندر ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کی بیٹنگ شرح ۱۵۰ ÷ ۵۰، یعنی ۳٫۰۰ ہوگی۔ حقیقی ۳۰ اوور استعمال کرنے سے شرح ۵٫۰۰ بنتی، جو ٹیم کی کارکردگی کو مصنوعی طور پر بہتر دکھاتی؛ اسی لیے مکمل کوٹے کا اصول نافذ ہے۔ یہ اصول ٹی ٹوئنٹی میں بھی لاگو ہو سکتا ہے: ۲۰ اوور کے مقابلے میں ۱۵ اوور پر ۷۳ رنز کی آل آؤٹ اننگز کو این آر آر کے لیے ۷۳ ÷ ۲۰، یعنی ۳٫۶۵ سمجھا جائے گا۔ تاہم ایک اہم باریکی ہے: اگر ٹیم آل آؤٹ نہیں ہوئی اور ہدف حاصل کرتے ہوئے اننگز ختم ہو گئی، تو عموماً حقیقی استعمال شدہ اوورز ہی شمار ہوتے ہیں، کیونکہ اننگز کا نتیجہ ہدف مکمل ہونے پر آ گیا۔ اس لیے صرف اسکور دیکھنا کافی نہیں؛ وکٹوں کی حالت اور نتیجہ بھی نوٹ کریں۔
دوسری ٹیم کے رن ریٹ پر بھی یہی اصول اثر ڈالتا ہے۔ فرض کریں آسٹریلیا نے ۳۸ گیندوں پر ۷۸ رنز بنا کر ۲۰ اوور کا ہدف حاصل کیا؛ اس کی شرح ۷۸ ÷ ۳۸ × ۶، یعنی تقریباً ۱۲٫۳۲ رنز فی اوور ہوگی۔ مقابلے میں ۷۳ رنز پر آل آؤٹ ہونے والی بنگلہ دیشی ٹیم کی شرح ۳٫۶۵ رہے گی، لہٰذا اس میچ کا فرق تقریباً منفی ۸٫۶۷ بنتا ہے۔ یہاں وکٹوں کی تعداد براہ راست فارمولے میں شامل نہیں، مگر آل آؤٹ ہونے کی حالت اوورز کے انتخاب کو بدل دیتی ہے۔ یہی وہ تکنیکی فرق ہے جسے مختصر آن لائن کیلکولیٹر اکثر واضح نہیں کرتے۔
فارمولا یاد رکھنے کے لیے یہ جدول ذہن میں رکھیں:
- مقررہ اوور مکمل: رنز ÷ مقررہ اوور۔
- آل آؤٹ پہلے: رنز ÷ مختص مکمل اوور۔
- ہدف پہلے مکمل: رنز ÷ استعمال شدہ قانونی اوور۔
- ایک گیند باقی: اوور کو گیندوں میں بدل کر حساب کریں۔
اب اگلا قدم یہ ہے کہ میچ کے بجائے پورے ٹورنامنٹ کا حساب کیسے جمع کیا جائے۔
غلط فہمی ۳: وکٹیں زیادہ ہوں تو این آر آر بھی زیادہ ہوگا — سراسر غلط
این آر آر کے بنیادی فارمولے میں وکٹیں شامل نہیں ہوتیں؛ اس میں رنز اور قانونی اوورز کی شرح استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰ اوور میں ۱۸۰ رنز بنانے والی ٹیم، چاہے ۲ وکٹ پر ہو یا ۹ وکٹ پر، اسی اننگز کے لیے ۹٫۰۰ رنز فی اوور رکھتی ہے۔ اسی طرح حریف کو ۱ وکٹ پر ۱۷۰ رنز یا ۹ وکٹ پر ۱۷۰ رنز دینے سے باؤلنگ شرح یکساں رہتی ہے۔ البتہ وکٹیں بالواسطہ اہم ہیں، کیونکہ آل آؤٹ ہونے پر پورا اوور کوٹہ لاگو ہو سکتا ہے، جبکہ ہدف جلد حاصل کرنے پر اصل گیندوں کی تعداد شرح کو بہت بڑھا سکتی ہے۔ ۲۰۱۵ کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ایک روزہ مقابلے جیسے حالات اسی تضاد کو نمایاں کرتے ہیں: نتیجہ اور وکٹیں میچ کی کیفیت بتاتے ہیں، مگر این آر آر رفتار کے عددی فرق کو ترجیح دیتا ہے۔ وکیپیڈیا کے نیٹ رن ریٹ خلاصے میں بھی اسی بنیادی تصور کی وضاحت ملتی ہے۔
ٹورنامنٹ کا این آر آر ہر میچ کے این آر آر کو سادہ طور پر جمع نہیں کرتا۔ درست طریقہ یہ ہے کہ تمام میچوں کے حاصل کردہ رنز کو تمام متعلقہ بیٹنگ اوورز سے تقسیم کریں، پھر تمام دیے گئے رنز کو تمام متعلقہ باؤلنگ اوورز سے تقسیم کر کے دونوں مجموعی شرحوں کا فرق نکالیں۔ مثال کے طور پر ٹیم الف نے تین میچوں میں ۱۸۰، ۱۴۰ اور ۲۰۰ رنز بنائے، جبکہ بیٹنگ اوور بالترتیب ۲۰، ۲۰ اور ۲۰ رہے؛ مجموعہ ۵۲۰ ÷ ۶۰، یعنی ۸٫۶۷ بنتا ہے۔ اگر اس نے مخالفین کو ۱۶۰، ۱۵۰ اور ۱۹۰ رنز دیے تو باؤلنگ شرح ۵۰۰ ÷ ۶۰، یعنی ۸٫۳۳ ہوگی، اور این آر آر مثبت ۰٫۳۴ ہوگا۔ ہر میچ کا فرق الگ نکال کر جمع کرنا اس صورت میں غلط نتیجہ دے سکتا ہے جب میچوں میں اوورز مختلف ہوں۔

بارش والے میچ میں این آر آر کیسے نکالا جاتا ہے؟
بارش سے متاثرہ میچ میں این آر آر کا حساب مقابلے کے ضابطے، نظرثانی شدہ اوورز اور ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کے مقررہ ہدف کے مطابق ہوتا ہے؛ صرف اصل اسکور کو اصل اوورز سے تقسیم کرنا کافی نہیں۔ اگر پہلی ٹیم نے ۲۰ اوور میں ۱۸۰ رنز بنائے اور بارش کے بعد دوسری ٹیم کو ۱۵ اوور میں نیا ہدف دیا گیا، تو جدول میں استعمال ہونے والے رنز اور اوورز مقابلے کے سرکاری اسکور کارڈ یا ٹورنامنٹ کے ضابطے سے لینے چاہییں۔ ہر بارش والے میچ میں ایک ہی سادہ قاعدہ لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ میچ ترک، بے نتیجہ، مکمل یا نظرثانی شدہ نتیجے کے ساتھ ختم ہو سکتا ہے۔ مریم لوئس ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقۂ کار کی وضاحت میں وسائل کے تناسب اور نظرثانی شدہ ہدف کے اصول بیان کیے گئے ہیں، مگر حتمی این آر آر کے لیے متعلقہ مقابلے کا ضابطہ بنیادی حوالہ ہے۔ اس لیے غیر سرکاری موبائل کیلکولیٹر کے بجائے سرکاری اسکور کارڈ دیکھیں۔
یہاں تین الگ صورتیں ذہن میں رکھیں:
- بے نتیجہ یا مکمل طور پر منسوخ میچ عموماً این آر آر میں شامل نہیں ہوتا۔
- بارش کے بعد مکمل ہونے والے میچ میں نظرثانی شدہ ہدف اور قانونی اوورز اہم ہوتے ہیں۔
- اگر نتیجہ ٹائی ہو یا سپر اوور ہو تو این آر آر کے اثرات ایونٹ کے مخصوص قوانین سے طے ہو سکتے ہیں۔
ایک کم بیان کی جانے والی بات یہ ہے کہ ڈی ایل ایس اسکور اور اصل اسکور کو بلا سوچے ایک ہی خانے میں ڈالنا خطرناک ہے۔ بعض صورتوں میں فاتح ٹیم کا ہدف پورا کرنا اس کی حقیقی بیٹنگ رفتار سے مختلف عدد پیدا کرتا ہے، جبکہ بعض جدولیں صرف مکمل اننگز کے سرکاری رنز استعمال کرتی ہیں۔ اسی لیے ۲۰۲۶ کے کسی بھی عالمی مقابلے، پی ایس ایل یا ایشیا کپ میں این آر آر دیکھتے وقت آئی سی سی یا منتظم ادارے کی شرائط پڑھنا لازم ہے۔ ڈی ایل ایس طریقۂ کار کی آسان وضاحت اس مرحلے پر خاصی مدد دے سکتی ہے۔
حقیقتاً کیا کام کرتا ہے؟
درست این آر آر کے لیے اسکور کارڈ سے چار اعداد اٹھائیں: حاصل کیے گئے کل رنز، بیٹنگ کے قانونی اوورز، دیے گئے کل رنز اور باؤلنگ کے قانونی اوورز۔ پھر پہلے مجموعی بیٹنگ شرح اور مجموعی باؤلنگ شرح نکالیں، آخر میں پہلی شرح سے دوسری منہا کریں۔ ایک اسپریڈ شیٹ میں ہر میچ کی تاریخ، فارمیٹ، نتیجہ، آل آؤٹ کی حالت، اوورز اور رنز الگ کالموں میں رکھنا سب سے محفوظ عملی طریقہ ہے۔ اس میں ۲۰۲۶ کے پی ایس ایل میچ اور ۵۰ اوور کے بین الاقوامی میچ ایک ہی جدول میں رکھے جا سکتے ہیں، مگر فارمیٹ کے مختص اوور الگ درج ہونے چاہییں۔ کرکٹ گفتگو کے اعداد و شمار والے تجزیے میں بھی یہی ترتیب مفید ہے، کیونکہ یہ صرف آخری عدد نہیں دکھاتی بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ عدد کہاں سے آیا۔
مثال کے طور پر تین میچوں کا ریکارڈ یوں بنائیں:
- میچ ایک: ۱۸۰ رنز، ۲۰ اوور؛ حریف کو ۱۶۰ رنز، ۲۰ اوور۔
- میچ دو: ۱۴۰ رنز، ۲۰ اوور؛ حریف کو ۱۵۰ رنز، ۲۰ اوور۔
- میچ تین: ۲۰۰ رنز، ۲۰ اوور؛ حریف کو ۱۹۰ رنز، ۲۰ اوور۔
- مجموعی بیٹنگ شرح: ۵۲۰ ÷ ۶۰ = ۸٫۶۷۔
- مجموعی باؤلنگ شرح: ۵۰۰ ÷ ۶۰ = ۸٫۳۳۔
- این آر آر: ۸٫۶۷ − ۸٫۳۳ = مثبت ۰٫۳۴۔
اس حساب کو دو اعشاری جگہ تک گول کرنے سے پہلے مکمل اعداد محفوظ رکھیں، کیونکہ ہر میچ کو پہلے گول کرنا آخری نتیجے میں معمولی مگر حقیقی فرق ڈال سکتا ہے۔ اگر دو ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں تو این آر آر اکثر اگلا درجہ بندی معیار بنتا ہے، لیکن بعض مقابلوں میں جیت کی تعداد، باہمی مقابلہ یا دوسرے ضوابط پہلے آ سکتے ہیں۔ اس لیے این آر آر کو فیصلہ کن سمجھنے سے پہلے لیگ کا سرکاری ضابطہ دیکھیں۔
کیا چیز نظر انداز کرنی چاہیے؟
صرف وکٹوں، صرف جیت کے فرق یا صرف ایک میچ کے رن ریٹ سے ٹورنامنٹ کی مجموعی پوزیشن کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ این آر آر میں رفتار اہم ہے، مگر ایک مختصر کامیاب تعاقب، آل آؤٹ اننگز، بارش سے کم کیے گئے اوورز اور مختلف فارمیٹ کے قواعد نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح ۱۹٫۵ کو ۱۹ اوور اور ۵ گیند سمجھنے کے بجائے غلطی سے ۱۹٫۵ اوور لکھنا بنیادی حسابی خرابی ہے۔ موبائل ایپ کے دکھائے گئے عدد کو بھی حتمی ماننے سے پہلے دیکھیں کہ اس نے آل آؤٹ ٹیم کے لیے پورا کوٹہ، ہدف مکمل کرنے کے لیے حقیقی گیندیں اور بے نتیجہ میچوں کو درست طور پر شامل کیا ہے یا نہیں۔ پی ایس ایل پوائنٹس ٹیبل سمجھنے کی رہنمائی میں یہی جانچ فہرست استعمال کی جا سکتی ہے۔
آخری جانچ کے لیے یہ پانچ سوال پوچھیں:
- کیا تمام رنز سرکاری اسکور کارڈ سے لیے گئے ہیں؟
- کیا اوورز کو قانونی گیندوں کے حساب سے درست پڑھا گیا ہے؟
- کیا آل آؤٹ ٹیم کے لیے پورا مختص کوٹہ لگایا گیا ہے؟
- کیا بارش والے میچ میں ڈی ایل ایس اور لیگ کے قواعد دیکھے گئے ہیں؟
- کیا مجموعی شرحیں گول کرنے سے پہلے نکالی گئی ہیں؟
اس طریقے سے مثبت این آر آر کا مطلب واضح رہتا ہے: ٹیم نے پورے مقابلوں میں مخالفین کے مقابلے میں نسبتاً تیز رنز بنائے یا کم رفتار سے رنز دیے۔ منفی این آر آر کا مطلب الٹ ہے، مگر یہ لازماً ہر میچ میں شکست نہیں بتاتا؛ ایک ٹیم کئی میچ جیت کر بھی ایک بھاری شکست کے باعث منفی این آر آر رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این آر آر کارکردگی کا مفید خلاصہ ہے، مکمل میچ تجزیہ نہیں۔ اسے پوائنٹس، جیت کی تعداد، مخالفین کے معیار اور میچ کے حالات کے ساتھ پڑھیں۔
اگر آپ اپنی اگلی پوائنٹس ٹیبل کی جانچ اسی اصول سے کرنا چاہتے ہیں تو یہ آخری حوالہ محفوظ کر لیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیا ہوتا ہے؟
جواب: رن ریٹ وہ شرح ہے جو بتاتی ہے کہ ٹیم نے فی اوور کتنے رنز بنائے۔ اس کا فارمولا حاصل کیے گئے کل رنز کو کھیلے گئے قانونی اوورز سے تقسیم کرنا ہے، مثلاً ۲۰ اوور میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹٫۰۰ ہوگا۔ اگر ٹیم ہدف پہلے حاصل کر لے تو عموماً حقیقی استعمال شدہ قانونی اوورز لیے جاتے ہیں۔ تاہم آل آؤٹ ہونے کی صورت میں محدود اوورز کے مقابلے میں پورا مختص اوور کوٹہ لاگو ہو سکتا ہے۔
سوال: نیٹ رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟
جواب: نیٹ رن ریٹ برابر ہے مجموعی بیٹنگ رن ریٹ منفی مجموعی باؤلنگ رن ریٹ۔ پہلے تمام میچوں کے حاصل کردہ رنز کو متعلقہ بیٹنگ اوورز سے تقسیم کریں، پھر مخالفین کو دیے گئے رنز کو باؤلنگ اوورز سے تقسیم کریں۔ مثال کے طور پر ۸٫۶۷ کی بیٹنگ شرح اور ۸٫۳۳ کی باؤلنگ شرح سے مثبت ۰٫۳۴ این آر آر بنتا ہے۔ ہر میچ کا این آر آر الگ جمع کرنے کے بجائے مجموعی رنز اور مجموعی اوورز استعمال کرنا زیادہ درست ہے۔
سوال: رن ریٹ اور نیٹ رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟
جواب: رن ریٹ صرف ایک ٹیم کی بیٹنگ رفتار ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ بیٹنگ اور باؤلنگ شرح کا باہمی فرق ہے۔ ۱۸۰ رنز کو ۲۰ اوور سے تقسیم کرنے پر ۹٫۰۰ رن ریٹ ملتا ہے، مگر این آر آر نکالنے کے لیے حریف کی رن بنانے کی شرح بھی درکار ہوگی۔ پوائنٹس برابر ہونے پر ٹورنامنٹ جدول میں عموماً این آر آر استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا متبادل نہ سمجھیں۔
سوال: اگر ٹیم جلد آل آؤٹ ہو جائے تو رن ریٹ کیسے نکلے گا؟
جواب: آل آؤٹ ٹیم کے لیے عموماً پورے مختص اوور استعمال کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف کھیلے گئے اوورز۔ ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۰ اوور کے اندر ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کی شرح ۳٫۰۰ ہوگی، کیونکہ ۱۵۰ کو ۵۰ سے تقسیم کیا جائے گا۔ یہ اصول ٹیم کو جلد آل آؤٹ ہو کر مصنوعی طور پر بہتر شرح حاصل کرنے سے روکتا ہے۔ حتمی حساب کے لیے ایونٹ کے سرکاری ضابطے کو ترجیح دیں۔
سوال: ۱۹٫۳ اوور کو رن ریٹ میں کیسے شمار کیا جاتا ہے؟
جواب: ۱۹٫۳ اوور دراصل ۱۹ اوور اور ۳ قانونی گیندیں ہیں، یعنی ۱۱۷ گیندیں، نہ کہ اعشاریہ ۱۹٫۳ اوور۔ درست حساب کے لیے ۱۱۷ گیندوں کو ۶ سے تقسیم کر کے ۱۹٫۵ اوور سمجھا جاتا ہے۔ اگر ۱۱۷ گیندوں میں ۱۴۰ رنز بنے ہوں تو شرح ۱۴۰ ÷ ۱۹٫۵ ہوگی، نہ کہ ۱۴۰ ÷ ۱۹٫۳۔ یہ فرق خاص طور پر مختصر ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں نمایاں ہو سکتا ہے۔
سوال: بارش والے میچ میں این آر آر کیوں بدل سکتا ہے؟
جواب: بارش والے میچ میں نظرثانی شدہ اوورز، ڈک ورتھ لوئس اسٹرن کا ہدف اور مقابلے کے سرکاری قواعد این آر آر بدل سکتے ہیں۔ اصل اننگز کے رنز کو نظرثانی شدہ اوورز کے ساتھ خودکار طور پر ملانا درست نہیں، کیونکہ ہر مقابلہ مختلف ضابطہ اپنا سکتا ہے۔ بے نتیجہ میچ عموماً این آر آر میں شامل نہیں ہوتا، جبکہ مکمل ہونے والے نظرثانی شدہ میچ میں سرکاری اسکور کارڈ کے اعداد استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمیشہ آئی سی سی یا منتظم لیگ کا حتمی جدول دیکھیں۔
سوال: کیا وکٹوں کی تعداد این آر آر میں شامل ہوتی ہے؟
جواب: وکٹیں این آر آر کے بنیادی فارمولے میں براہ راست شامل نہیں ہوتیں۔ فارمولا رنز اور قانونی اوورز کی شرح پر مبنی ہے، اس لیے ۱۸۰ رنز ۲۰ اوور میں بنانے والی ٹیم کی شرح وکٹوں کی تعداد سے نہیں بدلے گی۔ البتہ آل آؤٹ ہونے سے پورے اوور کوٹے کا اصول فعال ہو سکتا ہے، اور ہدف جلد مکمل کرنے سے استعمال شدہ گیندوں کی تعداد شرح پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے وکٹیں بالواسطہ اہم ہیں، براہ راست نہیں۔
خلاصہ یہی ہے کہ رن ریٹ رفتار کا حساب، جبکہ این آر آر مجموعی رفتار کا فرق ہے؛ رنز، قانونی گیندیں، آل آؤٹ کی حالت اور بارش والے میچ کے قواعد درست رکھیں، تو نتیجہ قابل اعتماد ہوگا۔
مزید کرکٹ اعداد و شمار اور پی ایس ایل تجزیوں کے لیے کرکٹ گفتگو سے جڑے رہیں۔